31 اکتوبر 2012 - 20:30

آج صبح سعودی دارالحکومت ریاض میں ایک خوفناک بم دھماکے کے نتیجے میں ایک صنعتی عمارت زمین بوس ہوئی ہے اور متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں/ آل سعود عوام کے تحفظ میں ناکام۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سعودی دارالحکومت ریاض کے مشرقی صنعتی علاقے میں شدید بم دھماکے سے ایک صنعتی عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے اور اب تک دو افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔اطلاعات کے مطابق بم دھماکہ اس قدر زوردار تھا کہ عمارت کے ارد گرد کھڑی گاڑیوں میں آگ لگ گئی۔سعودی ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ دھماکہ ایندھن لے جانے والے ایک ٹرک میں ہوا ہے۔

آزاد ذرائع سے اس واقعے کے بارے میں کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔/110

 اپ ڈیٹس:دھماکہ ایک نہ تھا بلکہ دارالحکومت کئی دھماکوں سے لرز اٹھا اور گیس ٹینکر والا قصہ معتبر نہ رہا کیونکہ ممکن نہ تھا کہ ایک ہی دن پانچ گیس ٹینکرز پانچ پلوں سے ٹکرا کر دھماکے سے پھٹ گئے ہوں۔دھماکے یکے بعد دیگرے صبح کے وقت ہوئے اور ابتدائی طور پر کہا گیا کہ 14 افراد ہلاک اور ساٹھ زخمی ہوئے ہیں لیکن بعد میں ہلاک شدگان کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ایک سعودی مخالف نے کہا ہے کہ ریاض میں ہونے والے دھماکوں کی تعداد پانچ تھی اور منہدم ہونے والی عمارت تجارتی نہیں بلکہ سیکورٹی فورسز کی تھی اور مرنے والوں میں ایک کرنل اور 12 سیکورٹی اہلکار شامل ہیں۔بعض مبصرین کہتے ہیں کہ گیس ٹینکر ایک کاروائی کا حصہ تھا جس کے پھٹنے سے ایک سیکورٹی عمارت زمین بوس ہوئی۔ عربی اسکائی نیوز نے لکھا کہ زخمیوں کی تعداد 135 تک پہنچ گئی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہلاک شدگان کی تعداد 22 تک پہنچ گئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 123 ہے اور متعدد افراد لاپتہ ہوچکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق نیشنل گارڈ کی عمارت پل کے قریب واقع ہے اور یہ دھماکہ اسی مقام پر ہوا ہے۔ بعض سعودی ذرائع نے کہا ہے کہ منہدم ہونے والی عمارت بھاری صنعتوں کی عمارت تھی جو 20 ہزار میٹر مربع پر پھیلی ہوئی تھی اور یہ عمارت مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہے۔ ان ذرائع نے کہا ہے کہ دھماکہ گیس ٹینکر کے "نیشنل گارڈ بریج" کے ایک ستون سے ٹکرانے کی وجہ سے ہوا ہے۔ کئی قریبی عمارتوں کو بھی اس دھماکے سے نقصان پہنچا ہے۔ اس دھماکے سے نیشنل گارڈ بریج کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق اس دھماکے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد 150 افراد سے تجاوز کرگئی ہے۔ دھماکے کے سلسلے میں متضاد اطلاعات نے اس دھماکے کو مشکوک بنادیا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ کہ یہ ایک حادثہ نہیں بلکہ سبوتاژ کی کاروائی ہے۔ مثال کے طور پر:فرانسیسی خبر ایجنسی نے لکھا: ایک گیس ٹینکر کو ایک پل کے نیچے آگ لگ گئی جس کی وجہ سے وہ پل کو ٹکرایا اور دھماکہ ہوا۔سعودی ذرائع: ٹینکر پل کے نیچے موڑ کاٹ رہا تھا کہ پل کو ٹکرایا اور ۔۔۔آل سعود سے وابستہ العربیہ نیٹ ورک: گیس سے بھرا ٹینکر ایک پٹرول پمپ سے ٹکرا گیا جس سے متعدد دھماکے ہوئے۔ایک عینی شاہد نے رائٹرز کو بتایا: ایک ٹینکر پل کے نیچے موڑ کاٹ رہا تھا کہ دھند جیسا ایک مادہ اس سے خارج ہوا اور چند سیکنڈ بعد زبردست دھماکہ ہوا۔ اس عینی شاہد نے یہ نہیں کہا کہ ٹینکر کسی چیز سے ٹکرا گیا تھا۔ ایک عینی شاہد نے فرانسیسی خبر ایجنسی سے کہا کہ مزدوروں سے بھری ایک بس بھی سڑک سے گذر رہی تھی جو دھماکے کی زد میں آکر تباہ ہوگئی اور ڈرائیور سمیت 30 مزدور اس بس میں جل کر جاں بحق ہوگئے۔ دریں اثناء فرانسیسی خبر ایجنسی کے فوٹوگرافر نے کہا: ایک ٹرک پل سے گر کر دمام روڈ پر آگرا اور دھماکے کی شدت سے اس کے مختلف حصے منہدم ہوگئے!زخمیوں کو نیشنل گارڈز کے اسپتال میں منتقل کیا گیا ہے جو حادثے کے مقام سے ایک کلومیٹر فاصلے پر واقع ہے۔ بعض ذرائع نے کہا ہے کہ حادثے میں ایک کرنل سمیت متعدد سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں جن کا تعلق نیشنل گارڈز سے ہوسکتا ہے۔ادھر سعودی حکمرانوں نے القصیم کے علاقے میں 11 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔

بلادالحرمین: سعودی دارالحکومت ریاض میں مشکوک دھماکےدھماکوں کی خبریں اب صرف پاکستان، شام اور عراق سے نہیں بلکہ آل سعود کے دارالحکومت ریاض سے بھی آنے لگی ہیں اور گوکہ سعودی حکمرانوں نے اپنی مطلق العنانیت کو بچانے اور علاقے میں دہشت گردی کی ترویج کے لئے اپنی خفیہ ایجنسیوں کی لگام متنازعہ شخصیت کے مالک بندر بن سلطان کے ہاتھ میں دی ہے لیکن دوسرے ممالک میں فتنہ انگيزیوں کی آگ بھڑکا بھڑکا کر اب بندر بن سلطان بھی اپنے ملک کو جارحیت اور ظلم وجبر اور قتل و دہشت گردی کے رد عمل سے بچانے میں ناکام ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔اطلاعات کے مطابق سعودی دارالحکومت ریاض کے در و دیوار کو ـ آل سعود کے بقول ایک اور مستقل ذرائع کے بقول پانچ دھماکوں نے ـ ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ادھر ایک تجزیہ نگار نے کہا ہے کہ آل سعود کی حکومت اپنے ہموطنوں کی حفاظت کرنے میں ناکام ہے۔

آل سعود عوام کے تحفظ میں ناکامسعودی مسائل کے ماہر اور سیاسی تجزيہ نگار علی الاحمد نے کہا ہے کہ ادھر ایک تجزیہ نگار نے کہا ہے کہ آل سعود کی حکومت اپنے ہموطنوں کی حفاظت کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔اطلاعات کے مطابق واشنگٹن میں پرشین گلف اسٹڈیز سینٹر کے سربراہ اور سیاسی تجزيہ نگار علی الاحمد نے پریس ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ حال ہی میں ایک مقام پر آتشزدگی کے نتیجے میں بلادالحرمین کے 30 شہری ـ جو ایک شادی میں شریک تھے ـ ہلاک ہوگئے ہیں اور اس کے بعد جمعرات کے روز بھی دھماکہ ہوا جس میں 50 سے 100 تک ہلاکتیں ہوئیں اور ہمیں نہیں معلوم کہ کل کیا واقعات رونما ہونگے۔ درجنوں افراد ہمارے ملک میں مرتے ہیں لیکن لگتا ہے کہ گویا ملک میں کچھ ہوا ہی نہيں ہے۔ ابتداء میں سعودی حکمران کہتے ہیں کہ واقعے کی تحقیقات ہورہی ہیں لیکن حادثے کے دن معلوم ہوتا ہے کہ عام لوگ مارے گئے ہیں اور حکومت نے اس حادثے کے بارے ميں تحقیقات کے اختتام کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے کہا: یہ حادثہ ایک مشکوک حادثہ ہے اور دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ کنکریٹ کے بڑے بڑے ستون تباہ ہوچکے ہیں جبکہ جس ٹرک کو حادثے کا باعث قرار دیا جارہا ہے وہ منہدم نہيں ہوا ہے بلکہ اس کو جزوی سا نقصان پہنچا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ گیس یا ڈیزل کے ٹرک کو نذرآتش کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ حادثہ 500 سے 700 میٹر تک لوگوں ہلاکتوں کا سبب بنا ہے اور ہماری اطلاعات کے مطابق اس حادثے میں صرف 20 یا تیس افراد ہلاک نہيں ہوئے بلکہ میرے خیال میں ہلاک شدگان کی تعداد اس سے کہیں زيادہ ہے۔ انھوں نے کہا: اس حادثے میں ایک گمشدہ کڑی بھی ہے جس کو ہم نہيں جانتے۔ یہ حادثہ بڑی حد تک ایک تصادم سے شباہت رکھتا ہے لیکن ایک دوسرا مسئلہ بھی ہے لیکن افسوس کہ میں ابھی اس پر ہاتھ نہيں رکھ سکتا چنانچہ ہمیں نتائج کا انتظار کرنا چاہئے لیکن جو کچھ اس وقت دکھایا جارہا ہے یہ ہے کہ یہ حادثہ امن و سلامتی اور شہریوں کی حفاظت کے معیاروں کے نہ ہونے کی وجہ سے رونما ہوا ہے۔

بلادالحرمین: سعودی حکام کے ہاتھوں شام کےخلاف لڑنے کے لئے دہشت گردوں کی تربیب جاری ہےریاض میں دھماکوں کی خبریں منظر عام پر آنے کے باوجود سعودی حکام مسلح دہشت گردوں کو شام کی حکومت کے خلاف لڑنے کی تربیت دے رہے ہیں اور غیر تربیت یافتہ دہشت گرد ترکی کے راستے ریاض منتقل کئے جارہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق حال میں میں ساحلی شہر جدہ میں سعودی و غیر سعودی فریقوں کے ایک خفیہ اجلاس کا انکشاف ہوا ہے جس میں سعودی حکام کے توسط سے شام کے مخالفین کو فوجی تربیت کے منصوبے پر بات چیت ہوئی ہے۔ ایسے حال میں کہ سعودی حکام اپنے شہریوں کو بڑی بڑی رقوم کی پیشکش کرکے خودکش حملوں کے لئے شام بھجوا رہے ہیں، مذکورہ خفیہ اجلاس میں فیصلہ ہوا ہے کہ اجلاس کے شرکاء میں سے ہر ایک، شام کے خلاف لڑنے والے دس دہشت گردوں کو بلادالحرمین میں منتقل کرے گا اور تبوک میں صہیونی ریاست اور اردن کے قریبی سرحدی علاقوں میں تربیت پانے والے دہشت گرد پیشہ ور دہشت گردوں کے عنوان سے شام میں بھجوادیئے جائیں۔  طے پایا ہے کہ سعودی ریٹائرڈ فوجی افسر ان افراد کو دہشت گردی کی تربیت دیں گے اور تربیت یافتہ دہشت گرد حلب اور ادلب کے علاقوں میں روانہ کئے جائیں گے۔

...............

/110